سولیا19؍اگست (ایس او نیوز) سولیا میں جوڈوپال کے علاقے میں جمعہ کے دن موسلادھار بارش کے بعد چٹان کھسکنے کا جو حادثہ پیش آیا تھاوہاں پر راحت رسانی کاکام ابھی بھی جاری ہے۔مٹی کے ملبے میں دبی ہوئی تین لاشیں باہر نکالی گئی ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی مٹی کے ڈھیر میں کچھ لوگ دبے ہوئے ہوسکتے ہیں۔اب تک سیلاب اور چٹان کھسکنے سے پانچ افراد کی موت ہونے کی تصدیق ہوئی ہے مگر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جمعہ کی رات میں مڈیکیرے ہفتہ واری بازار میں کاروبار کے لئے نکلے ہوئے 20تا 25افراد لاپتہ ہوگئے ہیں اورامکان یہ ہے کہ وہ اس قدرتی آفت کا شکار ہوگئے ہونگے۔
حالانکہ اب بارش کچھ کم ہوگئی ہے، مگر سمپاجے کے قریب ایکلّو جوڈوپال علاقے میں ایک بہت بڑی چٹان میں شگاف پیدا ہونے سے لوگوں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔
ضلع انچارج وزیر یوٹی قادر نے سولیا میں سیلاب اور جوڈوپالا میں چٹان کھسکنے کے مقام پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لینے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کوڈاگو کے علاقے میں قدرتی آفت والے حادثات رُک جائیں اورایک بار حالات قابو میں آجائیں تو وہاں پرمتاثرین کے لئے راحت رسانی کا کام شروع کیا جاسکتا ہے۔یوٹی قادر نے جوڈوپالا میں ریلیف کیمپس کا بھی معائنہ کیاجہاں پر آفت سماوی کے متاثرین کو رکھا گیا ہے۔اس کے علاوہ ریوینیو منسٹر آر وی دیشپانڈے نے بھی ضلع جنوبی کینرااوراڈپی کے ان علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا جو بھاری بارش کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے بھی جوڈوپالا علاقے کا دورہ کیا اورانتظامیہ کی طرف سے کیے گئے راحت رسانی کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ضلع ڈپٹی کمشنر سسی کانت سینتھل نے پولیس سپرنٹنڈنٹ روی کانتے گوڈا کے ساتھ متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ جوڈوپالا، مدیناڈو اور سمپاجے جیسے علاقوں سے بہت سے سارے خاندانوں کو بچالیا گیا ہے۔ مقامی افراد بھی ضلع انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں۔اس کے علاوہ تین مقامات پر متاثرین کے کھانے کے لئے ’’گنجی کیندرا‘‘ قائم کیے گئے ہیں۔